Ticker

6/recent/ticker-posts

عقیدے کی اہمیت نامی کتاب کا تعارف و تبصرہ


  عقیدے کی اہمیت نامی کتاب کا تعارف و تبصرہ 

آج جس کتاب کو ہم نے مطالعے کے لیے منتخب کیا ہے اس کا نام ہے عقیدہ کی اہمیت اور اس اہم کتاب کو ضبط تحریر میں لاے والی شخصیت کا نام نامی اسم گرامی مفتی محمد امین صاحب جن کا لقب فقیہ العصر بقیۃ السلف کے نام سے مشہور و معروف ہے ۔ 

ابتدا کچھ باتیں مصنف کے متعلق عرض کردوں جس سے کتاب کے مستند ہونے اور اس کی اہمیت کا اندازہ ہو جائے کیوں کے کتاب لکھنے والی شخصیت کا مستند اور قابل ہونا کتاب کی طرف راغب کرنے کا ایک سبب بنتا ہے اکثر لوگ مطالعے کے لیے کتاب کے انتخاب میں مصنف کا معیاری ہونا ضرور دیکھتے ہیں اور بعض لوگ تو کتاب کے موضوع یا عنوان سے بھی قبل کتاب کے مصنف کے متعلق ضرور چھان پتخ کرتے ہیں کیوں کہ مصنف کا قابل اعتبار و مستند و معیاری ہونا بہت ضروری ہوتا ہے چناچہ اب ہم آپ کو کچھ مختصر مصنف کا تعارف کرادیتے ہیں ۔ 


تذکرہ مصنف لکھنا باقی ہے۔


کتاب عقیدہ کی اہمیت ایک مختصر سا رسالہ ہے جو کل 64 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کو نشر کرنے والا ادارہ مکتبہ صبح نور ہے جامعہ ریاض العلوم مسجد خضراء پیپلز کالونی فیصل آباد فون 730833

مصنف نے اس کتاب میں عقیدے کی اہمیت کو بحسن و خوبی بیان فرمایا ہے اور یہ موضوع و عنوان دور حاضر کی سخت ضرورت ہے کہ جس میں لوگ عقیدے کی اہمیت اور درست عقیدے کی معلومات سے یکسر نا بلد ہیں اور انھیں اس اہم موضوع کی طرف کوئی خاصی توجہ بھی نہیں ہے جب کے ایمان کا تمام تر دارومدار درست عقائد و نظریات پر ہی ہے اور ایمان سبب ہے دخول جنت کا اگر عقیدے کی اہمیت کو نہ جانے گے تو عقائد کی درستگی کی طرف بھی توجہ نہیں کی جائے گی جس کے نتیجے میں اخروری نقصان کا قوی ایندشہ ہے اور وہ نقصان ایسا ہے کہ جس بڑا کوئی نقصان نہیں اور حقیقی کامیابی تو اخروی ہی ہے جس کا تمام تر دارومدار عقائد و نظریات پر ہی ہے ۔ 


مصنف نے اس کتاب میں سب سے  پہلے عقیدے اور عمل کا فرق واضح فرمایا ہے تاکہ قاری کو اندازہ ہو سکے کے اعمال کی قبولیت کا انحصار بھی عقیدے کی درستگی پر ہی ہے اگر عقیدہ درست نہ ہوگا تو کتنا مشکل اور مشقت والا عمل کیوں کرلے اس کا کوئی اخروی فائدہ و ثواب اس کو حاصل نہ ہوگا اور ہمیشہ کی رسوائی و عذاب علاوہ ہے مصنف نے عمل کے مقابلے میں عقیدے کی اہمیت کو واضح کیا ہے ۔ 

مصنف نے یہ بات بھی واضح کی ہے کہ عمل کا اختلاف تو قابل قبول ہے لیکن عقائد اختلاف قبول نہیں یعنی اگر امت میں اعمال کے مسائل نماز روزہ زکوۃ حج اور دیگر میں جوئی اختلاف ہو جائے تو اس میں گنجائش ہے بلکہ روایت میں اسے رحمت کہا گیا لیکن عقائد بلکل درست اور ایک جیسے ہونے چاہیں اس کا اختلاف قبول نہیں ۔ 




Post a Comment

0 Comments